behtreen intikhab........boht shukriya
محبت کر۔ محبت کے سوا کیا کر سکتا ہے۔آللہ کی غلامی تو فرض ہے۔ اسکا حکم بجا لانے میں تو اپنی ہی فلاح ہے۔ ہاں محبت اسکے لئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھا کچھ؟
"سمجھ تو گیا ابا' پر محبت کی تو نہیں جاتی' ہو جاتی ہے۔"
ٹھیک کہتا ہے لیکن محبت بھی بے سبب کبھی نہیں ہوتی۔کبھی یہ یمدردی کی وجہ سے ہوتی ہے' کبھی اسکا سبب کوئی خواہش ہوتی ہے' کبھی آدمی محبت کی طلب میں محبت کرتا ہے ' یہ سوچ کر کہ اسے چواب میں محبت ملے گی اور کبھی آدمی کسی کے احسانات کی وجہ سے محبت کرتا ہے تیرے پاس محبت کا سبب تو موجود ہے۔ محبت کا سامان تو کر۔"
"کیسے کروں ابا"
"ہر وقت خدا کے احسانات باد کیا کر۔ غور کیا کر کہ ہر سانس خدا کی عنایت ہے۔ یوں دل میں شکر گزاری پیدا ہو گی۔ پھر تو بے بسی محسوس کریگا۔کہ اتنے احسانات کا شکر کیسے ادا کیا جا سکتا ہے۔ وہ بے بسی تیرے دل میں محبت پیدا کریگی۔ تو سوچے گا کہ مالک نے بغیر کسی غرض کے تجھے اتنا توازا۔ تچھ سے محبت کی۔ تو غور کر کہ اتنی بڑی دنیا میں کڑوڑوں انسانوں کے بیچ تو کتنا حقیر ہے ۔ سینکڑوں کے مجمع میں بھی تیری کوئی پیچان نہیں۔ کوئی تجھ پر دوسری نظر بھی نہ ڈالے گا۔کسی کو پروا بھی نہ ہو گی کہ کوئی الہی بخش بھی ہو سکتا ہے۔لیکن تیرا رب کڑوڑوں لوگوں میں بھی تجھے یاد رکھتا ہے' تیری ضروریات پوری کرتا ہے تیرے بہتری سوچتا ہےاور تجھے اہمیت دیتا ہے۔ان سب باتوں پر غور کرتا رہے گا تو تیرے دل میں خدا کی محبت پیدا ہو گی۔ اس محبت کے ساتھ بھی یہ سب کچھ سوچتا رہے گا تو محبت میں گہراءی پیدا ہو گی اور پھر تجھے خدا سے عشق ہو جائے گا۔
(عشق کا عین' علیم الحق حقی
تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا
behtreen intikhab........boht shukriya
nice sharing
thanxxx
تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا