تیرے پیچھے میں کسی طور نہیں آسکتا
چھوڑ کر گاؤں کو لاہور نہیں آسکتا
وہ خدا ہے جو فلک چھوڑ کے آ سکتا ہے
میں زمیں چھوڑ کے فی الفور نہیں آ سکتا
دیکھ مشہور مصور مری تصویر کے ساتھ
ماسوا اس کے کوئی اور نہیں آ سکتا
ہم کہانی کے اب اس موڑ پہ آ پہنچے ہیں
جس میں بچپن کا کوئی دور نہیں آ سکتا
میں نے خاموش محبت کو یہاں رکھا ہے
یعنی اس دل سے کبھی شور نہیں آ سکتا
توصیف یوسف اشعر
Sent from my SM-G610F using Tapatalk