Results 1 to 2 of 2

Thread: کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,276
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Rep Power
    214784

    Thumbs up کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

    کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

    کبھی کبھی ہم غیر معمولی Ø+د تک Ø+یرت زدہ رہ جاتے ہیں کیونکہ اچانک ہی Ú©Ú†Ú¾ ایسا ہو جاتا ہے جو ہمارے وہم Ùˆ گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ کیا واقعی؟ اچانک بھی Ú©Ú†Ú¾ ہوسکتا ہے؟ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اچانک ہی Ú©Ú†Ú¾ ہوگیا ہے تو کیا ہم Ø+قیقت بیان کر رہے ہوتے ہیں؟ Ø+قیقت یہ ہے کہ Ú©Ú†Ú¾ بھی اچانک نہیں ہوتا۔ ہر معاملہ چند خاص منطقی مراØ+Ù„ سے گزرنے ہی پر کسی انجام تک پہنچتا ہے اور پھر وہ انجام ہمارے سامنے آتا ہے۔ کوئی بھی واقعہ چند ایسے مراØ+Ù„ پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں کسی بھی درجے میں غیر منطقی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قابلؔ اجمیری Ù†Û’ خوب کہا ہے ØŽ
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں/ Ø+ادثہ ایک دم نہیں ہوتا
    زندگی کا سفر اِسی طور جاری رہتا ہے۔ ہر معاملہ چند خاص منطقی مراØ+Ù„ سے گزر کر انجام تک پہنچتا ہے۔ ہمیں زندگی بھر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر مسئلہ ہمارے پاس اِس طور آتا ہے کہ ہم تھوڑے بہت Ø+یران ضرور ہوتے ہیں۔ کبھی آپ Ù†Û’ اس نکتے پر غور کیا ہے کہ کوئی بھی مسئلہ راتوں رات پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی راتوں رات پروان چڑھتا ہے۔ چند مخصوص Ø+الات کسی بھی Ø+ادثے‘ واقعے یا مسئلے Ú©Ùˆ جنم دیتے ہیں۔ کوئی بھی معاملہ اپنے مقام پر پروان چڑھتا رہتا ہے اور پھر اچانک بے نقاب ہوتا ہے تو ہم Ø+یران رہ جاتے ہیں۔ کوئی بھی بØ+رانی کیفیت اچانک بے نقاب ہوتی ہے‘ پیدا نہیں ہوتی۔ بہت سے عوامل مل کر کسی بھی بØ+رانی کیفیت Ú©Ùˆ پیدا کرتے ہیں۔ ہم عمر Ú©Û’ مختلف مراØ+Ù„ میں مختلف کیفیات سے گزرتے ہیں۔ اِسی بات Ú©Ùˆ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ زندگی مختلف مراØ+Ù„ سے گزر کرپختہ ہوتی جاتی ہے۔ جب ہم غور کرتے ہوئے معاملات Ú©ÛŒ تہہ تک پہنچتے ہیں‘ تب اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی کام نہ تو اچانک ہوتا ہے اور نہ ہی غیر منطقی طور پر۔ بیشتر معاملات میں ہماری کوتاہی، تساہل یا تخمینے Ú©ÛŒ غلطی معاملات Ú©Ùˆ خراب کرتی ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں ہم اپنی ذمہ داری فراموش کرتے ہوئے واقعات Ú©Ùˆ رونما ہونے دیتے ہیں اور پھر سلسلۂ واقعات بڑھتے بڑھتے ہمارے لیے ایک بڑے بØ+ران Ú©ÛŒ Ø´Ú©Ù„ اختیار کرنے Ú©Û’ بعد اچانک سامنے آتا ہے اور ہم سوچنے لگتے ہیں کہ یہ راتوں رات کیا ہوگیا Ø+الانکہ راتوں رات Ú©Ú†Ú¾ بھی نہیں ہوا ہوتا۔ کسی بھی بØ+رانی کیفیت Ú©Ùˆ راتوں رات رونما ہونے والی تبدیلی سمجھنا ہماری اپنی کوتاہی یا غلطی ہے۔ زندگی ہمارے لیے ہر اعتبار سے ایک بڑا معمہ ہے‘ جسے سمجھنا بھی لازم ہے اور سمجھانا بھی۔ ہم کسی بھی معاملے Ú©Ùˆ نظر انداز کرنے کا خطرہ مول نہیں Ù„Û’ سکتے۔ بہت سے چھوٹے واقعات اگر نظر انداز کیے جائیں تو بØ+رانی کیفیت میں تبدیل ہوکر ہمارے لیے الجھنیں بڑھاتے ہیں۔ ایسا چونکہ زندگی بھر ہوتا رہتا ہے اس لیے سنجیدہ ہوکر اس مشکل کا تدارک کرنے پر مائل ہونا ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اس ضرورت Ú©Ùˆ پورا کرنے میں تساہل سے کام لینے Ú©ÛŒ گنجائش نہیں۔ یہ نکتہ ہر قدم پر ذہن نشین رہے کہ کوئی بھی معاملہ بلا جواز نہیں ہوتا۔ اپنے Ú©Ù… Ùˆ بیش تمام معاملات Ú©Û’ لیے ہم ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔
    ڈیل کارنیگی کا شمار اُن مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں Ù†Û’ زندگی بھر زندگی کا معیار بلند کرنے سے متعلق مساعی Ú©Û’ بارے میں لکھا۔ ان Ú©ÛŒ تØ+ریروں Ù†Û’ کروڑوں افراد Ú©ÛŒ زندگی کا رخ تبدیل کیا۔ڈیل کارنیگی پریشانی سے نجات پانے اور بہتر زندگی Ú©Û’ لیے سب سے بہتر تعلقات استوار کرنے Ú©Û’ طریقوں Ú©Û’ بارے میں Ù„Ú©Ú¾Ù†Û’ والوں میں سب سے آگے ہیں۔ انہوں Ù†Û’ لاکھوں افراد Ú©Ùˆ بہتر گفتگو اور تقریر کا فن سکھانے Ú©Û’ Ø+والے سے کلیدی نوعیت کا خدمات انجام دیں۔ ڈیل کارنیگی Ù†Û’ لکھا ہے کہ اپنے کسی بھی معاملے میں آپ قصور وار ہوں یا نہ ہوں‘ ذمہ دار آپ ہی ہوتے ہیں! یہ ایک بڑا نکتہ ہے جسے سمجھنے Ú©ÛŒ ضرورت ہے۔ انسان چونکہ معاشرتی Ø+یوان ہے اس لیے مل جل کر رہنے ہی کا نام زندگی ہے۔ جب ہم مل جل کر رہتے ہیں تو بہت سے ایسے معاملات بھی پیدا ہوتے ہیں جو ہماری مرضی Ú©Û’ نہیں ہوتے۔ سبھی Ú©Ú†Ú¾ ہماری مرضی کا ہو بھی نہیں سکتا۔ خیالات، طرزِ عمل اور Ø+الات ‘ تینوں کا اختلاف یا تضاد ہمارے لیے مسائل پیدا کرتا ہے۔ ان مسائل Ú©Ùˆ Ø+Ù„ کرنے Ú©ÛŒ کوشش کرتے رہنے ہی میں زندگی کا اصل Ø+ُسن پوشیدہ ہے۔ اگر Ø+الات مسائل پیدا کریں تو اُن سے Ù„Ú‘Ù†Û’ اور اُنہیں Ø+Ù„ کرنے کا ایک اپنا مزا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ہم اپنی صلاØ+یت Ùˆ سکت Ú©Ùˆ آزما پاتے ہیں۔
    کسی بھی معاملے Ú©Ùˆ غیر معمولی وسعت اختیار کرنے دینا یا نہ کرنے دینا ہمارے اختیار Ú©ÛŒ بات ہے۔ اگر پہلے مرØ+Ù„Û’ میں بات Ú©Ùˆ سمجھیں اور معاملات Ú©Ùˆ قابو میں رکھنے Ú©ÛŒ کوشش کریں تو خرابی کا گراف کبھی بلند نہ ہو۔ کبھی کبھی ماØ+ول میں کوئی ایسی بڑی تبدیلی بھی رونما ہوتی ہے جس پر ہمارا Ú©Ú†Ú¾ اختیار نہیں کرتا‘ تب بھی معاملات Ú©Ùˆ درست رکھنے Ú©ÛŒ ذمہ داری ہماری ہی ہوتی ہے۔ سیاسی Ø+الات معیشت اور معاشرت‘ دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سلامتی Ú©ÛŒ صورتØ+ال بھی خرابیاں پیدا کرکے ہمیں پریشان کرتی ہے۔ ایسے معاملات میں ہم خود Ú©Ùˆ بے بس پاتے ہیں مگر یہ بے بسی Ø+الات Ú©Ùˆ پیدا ہونے سے روکنے میں ہوتی ہے، اصلاØ+ِ اØ+وال کا آپشن تو ہمارے پاس ہمیشہ رہتا ہے۔ جب تک زندگی ہے‘ تب تک مسائل ہیں، الجھنیں ہیں۔ ہم مسائل سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ مسائل اس لیے ہوتے بھی نہیں کہ ان سے جان چھڑائی جائے۔ کوئی بھی مسئلہ اس طور Ø+Ù„ نہیں کیا جاسکتا۔ پنڈت برج نارائن چکبستؔ Ù†Û’ خوب کہا ہے ØŽ
    مصیبت میں بشر کے جوہرِ مردانہ کھلتے ہیں
    مبارک بزدلوں کو گردشِ قسمت سے ڈر جانا
    جب ہم معاملات Ú©Ùˆ نظر انداز کرنے Ú©ÛŒ روش پر گامزن ہوتے ہیں تب مسائل صرف پیدا نہیں ہوتے بلکہ پنپتے بھی Ú†Ù„Û’ جاتے ہیں۔ یہ کیفیت زیادہ دیر رہے تو معمولی سے معاملات بھی بØ+رانی کیفیت کا روپ دھارلیتے ہیں۔ ذہن سے یہ تصور کھرچ کر پھینک دیجیے کہ کوئی بھی معاملہ اچانک پیدا ہوکر ہمارے سامنے آسکتا ہے۔ بیشتر معاملات میں ہماری اپنی کوتاہی یا تساہل ہی Ú©Û’ نتیجے میں کوئی خرابی اندر ہی اندر پنپتی ہے اور پھر جب وہ بے نقاب ہوتی ہے تو ہم Ø+یران رہ جاتے ہیں۔ Ø+قیقت یہ ہے کہ ہمارے بیشتر مسائل کا تعلق ہماری اپنی عادات Ùˆ اطوار سے ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی اصلاØ+ پر مائل ہوتے ہیں تبھی مشکلات گھٹتی ہیں۔ معیاری انداز سے جینے Ú©Û’ لیے لازم ہے کہ آپ اپنی سوچ، مزاج، عادات اور معمولات Ú©Ùˆ متوازن رکھیں۔ اس Ú©ÛŒ ایک بہتر صورت یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے Ú©Ùˆ ابتدائی مرØ+Ù„Û’ میں شناخت کرنا سیکھیں۔ جب ہم کسی بھی مسئلے Ú©Ùˆ ابتدائی مرØ+Ù„Û’ میں Ø+Ù„ کرنے پر مائل ہوتے ہیں تب وہ ہمارے لیے کوئی بڑی الجھن پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ کسی بھی بØ+رانی کیفیت Ú©Ùˆ ابتدائی مرØ+Ù„Û’ میں شناخت کرنے سے ہم خود Ú©Ùˆ کسی بھی ممکنہ صورتØ+ال کا سامنا کرنے Ú©Û’ لیے تیار کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
    کائنات کا جو اصول فرد پر اطلاق پذیر ہوتا ہے وہی معاشروں اور ریاستوں پر بھی تو منطبق ہوتا ہے۔ کوئی بھی قوم جب معاملات Ú©Ùˆ سنجیدہ نہیں لیتی تب معاملات بگاڑ Ú©ÛŒ طرف جاتے ہیں۔ فرد Ú©ÛŒ طرØ+ معاشرے بھی خرابیوں Ú©Ùˆ نظر انداز کرتے رہتے ہیں اور جب وہ منطقی Ø+د تک پہنچنے Ú©Û’ بعد بے نقاب ہوتی ہیں تو پورا معاشرہ Ø+یرت زدہ رہ جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر مبتلائے Ø+یرت رہنے Ú©ÛŒ زیادہ گنجائش نہیں ہوتی۔ بØ+رانی کیفیت کا بنیادی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اُس سے نجات پانے Ú©ÛŒ کوشش Ú©ÛŒ جائے۔ انفرادی اور اجتماعی سطØ+ پر پنپنے Ú©ÛŒ یہی ایک معقول صورت ہے کہ مسائل Ú©Ùˆ اس وقت شناخت کیا جائے جب وہ بیج Ú©ÛŒ Ø´Ú©Ù„ میں ہوں۔ یہ بیج اگر مٹی میں دب کر پروان Ú†Ú‘Ú¾ جائے تو تناور درخت Ú©ÛŒ Ø´Ú©Ù„ اختیار کرکے ہمارا ناک میں دم کرتا ہے اور پھر بہت سے معاملات بلا جواز طور پر بگڑتے Ú†Ù„Û’ جاتے ہیں۔




    2gvsho3 - کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

  2. #2
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,276
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Rep Power
    214784

    Default Re: کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

    2gvsho3 - کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ ایم ابراہیم خان

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •